Call Us @:

+91-40-24416847

+91-40-24576772

Fax: +91-40-24503267

دین اسلام میں حلال و حرام کا خاص خیال رکھنے کی تاکید

جامعہ نظامیہ میں علمی مذاکرہ، علماء کرام کے تحقیقی مقالے، شیخ الجامعہ مفتی خلیل احمد کا خطاب

حیدرآباد ۔ 11؍ فبروری2018 ۔(پریس نوٹ) ۔ علوم اسلامیہ کی عظیم اسلامی یونیورسٹی جامعہ نظامیہ میں آج منعقدہ علمی مذاکرہ بعنوان ’ بری و بحری ماکولات و مشروبات شریعت کی روشنی میں‘ کے موقع پر صدارتی خطاب کرتے ہوئے مفکر اسلام مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ نے کہا کہ دین اسلام میں حلال و حرام کا خاص خیال رکھا گیا ۔ اسلام میں حلال کی اجازت اور حرام سے اجتناب کی تاکید کی گئی ہے ۔ اسلام میں بری و بحری جانوروں کی حلت و حرمت کے سلسلہ میں تفصیلی ہدایات ملتی ہیں ۔ حلال و حرام جانوروں سے متعلق چار اماموں کے درمیان اجتہاد و استنباط کی بنیاد پر اختلاف پایا جاتا ہے ۔ قرآن و حدیث سے مسائل نکالنے میں رائے کا یہ اختلاف حقانیت و اخلاص کی بنیاد پر ہے جو امت کے لیے رحمت ہے ۔ سمندری حیوانات میں احناف کے پاس صرف مچھلی حلال ہے ۔ مولانا نے مزید کہا کہ اہل اسلام کی ذمہ داری ہے کہ آج تمام عصری وسائل و ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے اسلام کے پیغام کی اشاعت کریں اور اسلامی تعلیمات پر اٹھنے والے اعتراضات کے اطمینان بخش جوابات دیں ۔ انہوں نے کہا کہ دلائل کی رو سے فقہ حنفی نہایت ہی مضبوط اور پختہ ہے اور دیگر ائمہ کے مذاہب کے اپنے اپنے دلائل ہیں ۔ حضرت مولانا محمد خواجہ شریف شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ایمان والو تم کو پاکیزہ چیزوں سے جو دیا گیا ہے اس کو کھاؤ ۔ ہر طیب چیز حلال ہے اور ہر خبیث چیز حرام ہے ۔ طیب وہ ہے جس میں زہریلا مادہ نہ ہو اور وہ اخلاقی خرابی کا سبب نہ ہو ۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے حلال و حرام جانوروں کے بارے میں جانب احتیاط کو اختیار فرمایا ۔ جھینگا احناف کے پاس مکروہ ہے ۔ جھینگا کیکڑے کے خاندان سے ہے ۔ کیکڑا بھی امام اعظم کے پاس ناجائز ہے ۔ گھوڑ پھوڑ حشرارت الارض میں سے ہے اور یہ امام اعظم کے پاس مکروہ تحریمی ہے ۔ حضور ﷺ نے گھوڑ پھوڑ نہیں کھایا اور دوسری روایت میں ہے کہ اُسے دوسروں کو کھانے کے لیے دینے سے بھی منع فرمایا ۔ پروفیسر سید بدیع الدین صابری رکن معزز مجلس انتظامی جامعہ نظامیہ نے کہا کہ جن جانوروں کو حلال کیا گیا ان کو پاک کہا گیا اور جن کو حرام کیا گیا ان کو خبائث کہا گیا ۔ جانور کو ذبح کرنے کی وجہ سے اس کا خون جسم سے بہہ جاتا ہے اور گوشت پاک ہوجاتا ہے ۔ حیوانی غذاؤں کا انسانی اخلاق پر اثر پڑتا ہے ۔ مولانا مفتی سید ضیا الدین نقشبندی شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ نے کہا کہ جو چیزیں انسان کے جسم کے لیے نقصان دہ ‘ عقل کے لیے ضرر رساں ‘ اور روحانیت کے لیے نقصان دہ ہیں وہ ممنوع ہیں ۔ سمندری ماکولات دو قسم کے حیوانی ماکولات و غیر حیوانی ماکولات ہیں ۔ ہر ایک کے پاس الگ الگ سمندری جانوروں میں صرف مچھلی جائز ہے اور جو مچھلی فطری موت سے پانی کے اوپر پلٹ جائے وہ جائز نہیں دیگر ائمہ کے پاس تفصیل ہے ۔ مخلوقات میں سے چھ سو اقسام سمندر میں اور چار سو اقسام خشکی میں ہیں ۔ قدیم محققین نے صرف مچھلی کی تیس ہزار قسمیں بتلائی ہیں ۔ مولانا مولانا محمد لطیف احمد نائب شیخ الفقہ نے کہا کہ جن مصنوعات میں خنزیر کی چربی ‘ خنزیر اور گائے کی چربی کا مجموعہ ‘ خنزیر کی آنتیں اور پھیپھڑے استعمال کئے جاتے ہیں وہ حرام ہیں ۔ خنزیر کی چربی سے فلیورس تیار کئے جاتے ہیں ۔ مسلمان اس سے پرہیز کریں ۔ انہوں نے حدیث پاک کے حوالہ سے کہا کہ حلال اور حرام واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان شبہ والی چیزیں ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے تو جو شخص شبہ والی چیزوں سے پرہیز کیا وہ اپنے دین اور اپنی عزت کے لیے بری ہوگیا ۔ علمی مذاکرہ کا آغاز حافظ محمد یسین کی قرات اور سید خواجہ شہباز صابری کی نعت شریف سے ہوا ۔ اس موقع پر مولانا سید محمد صدیق حسینی کارگزار امیر جامعہ جامعہ نظامیہ ‘ مولوی سید احمد علی معتمد جامعہ نظامیہ ‘ مولانا ڈاکٹر محمد سیف اللہ نائب شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ موجود تھے ۔ سمینار میں مولانا میر لطافت علی شیخ التفسیر جامعہ نظامیہ ‘ مولانا سید عزیز اللہ قادری شیخ المعقولات جامعہ نظامیہ ‘ مولانا محمد عبدالقوی ‘ مولوی محمد عمر علی خاں رکن انتظامی جامعہ نظامیہ ‘ مولانا سید اصغر شرفی رکن انتظامی جامعہ نظامیہ ‘ نائب شیوخ ‘ اساتذہ کرام اور طلباء قدیم و جدید کی کثیر تعداد موجود تھی ۔ مولانا حافظ محمد عبید اللہ فہیم نے انتظامات کی نگرانی کی ۔ نظامت کے فرائض مولانا محمد فصیح الدین نظامی مہتمم کتب خانہ جامعہ نظامیہ نے انجام دئیے ۔